حیدرآباد28اگست ( ایس او نیوز؍ایجنسی )شہر حیدرآباد میں ہوئے دو بم دھماکوں کے معاملہ کے حتمی فیصلے کو نامپلی این آئی اے عدالت نے 4ستمبرتک ملتوی کردیا۔ یہ دھماکہ 11سال پہلے شہر حیدرآباد کے گوکل چاٹ بھنڈار اور لمبنی پارک میں کچھ ہی دیر کے وقفہ کے بعد ہوئے تھے ۔ ان دھماکوں میں 42افراد ہلاک اور 50زخمی ہوگئے تھے۔
7اگست کو بحث اور جوابی بحث کی تکمیل کے بعد سیشن جج سرینواس راو نے 27اگست کو اس معاملہ کا فیصلہ مقرر کیا تھا۔ تلنگانہ پولیس کے کاونٹر انٹلی جنس شعبہ نے اس معاملہ کی جانچ کی اور تین ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ ان میں سے بعض مفرور بتائے گئے ہیں۔ ملزمین کے خلاف دفعہ 302(قتل ) اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے ساتھ ساتھ دھماکو اشیاء کے قانون ‘ دلسکھ نگر فٹ اوور برج کے نیچے سے برآمدبموں کے سلسلہ میں یہ الزامات وضع کئے گئے تھے۔ یہ بم پھٹنے سے رہ گئے تھے۔
اکتوبر 2008میں مہاراشٹرا کے انسداد دہشت گردی دستے کی جانب سے گرفتار افراد میں یہ ملزمین شامل ہیں ۔ ان پر مبینہ انڈین مجاہدین کے کارکن ہونے کا الزام ہے۔یہ چاروں فی الحال چرلا پلی سنٹرل جیل میں ہیں۔ اس معاملہ کے دوران تقریباً 170گواہوں کی جرح اور جوابی جرح کی گئی تھی ۔
گوکل چاٹ بھنڈار میں ہوئے دھماکے میں 32افراد ہلاک جبکہ ریاستی سکریٹریٹ سے کچھ ہی میٹر کے فاصلے پر واقع لمبنی پارک اوپن ایر تھیٹر میں ہوئے دھماکہ میں مزید 10افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان دونوں دھماکوں میں 50سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔